May 26, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/americanarmenianlegion.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Objects are seen in the sky above Jerusalem after Iran launched drones and missiles toward Israel, in Jerusalem, on April 14, 2024. (Reuters)

ایران نے اسرائیل کے خلاف ڈرونز اور میزائیلوں سے فضائی حملہ کیا ہے۔ اسرائیل نے ہفتے کو دیر گئے کہا تھا کہ ایران نے اس پر حملے کے لیے 100 سے زیادہ ڈرونز روانہ کیے ہیں۔ تاہم ایران نے تصدیق کی ہے کہ اس نے ڈرونز اور بیلسٹک میزائیل فائر کیے ہیں۔

اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی ڈرونز بھیجے گئے ہیں اور اس کا دفاعی نظام انہیں مار گرانے یا سائرن بجانے کے لیے تیار ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق دو بجے اور پاکستانی وقت کے مطابق صبح چار بجے ڈرونز اسرائیل پہنچیں گے۔ اسرائیلی دفاع نظام متحرک ہو گیا۔

رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج کے چیف ترجمان ہگاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ڈرونز کو اسرائیل پہنچنے میں کئی گھنٹے لگیں گے۔ وائٹ ہاؤس نے اسرائیل کی حمایت کے اپنے آہنی عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ایران نے دمشق میں اپنے قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کا جواب دینا شروع کر دیا۔ پاسداران انقلاب نے 100سے زیادہ ڈرونز اور کروز میزائلوں سے حملہ شروع کر دیا۔ ڈرونز کو اسرائیل تک پہنچنے میں گھنٹوں لگ سکتے ہیں۔Play Video

100 سے زیادہ ڈرونز

ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران نے ہفتے کی شام کو اسرائیل کی طرف 100 سے زیادہ ڈرونز بھیجے ہیں۔ وقت کے ساتھ مزید ڈرونز بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے دعویٰ کے مطابق بعض ڈرونز اسرائیلی حدود میں آگئے ہیں۔ دوسری طرف تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائی دفاع کو تل ابیب پر ایرانی ڈرونز کو روک رہا ہے۔

بیلسٹک میزائل

اسرائیلی چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ ایران نے اسرائیل میں اہداف پر درجنوں ڈرون لانچ کیے ہیں اور ان کی پرواز کے وقت میں گھنٹے لگنے کی توقع ہے۔ ایران کے کچھ ڈرونز کو اردن یا شام میں مار گرایا گیا ہے۔

ریٹائرڈ اسرائیلی جنرل آموس یادلن نے چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ڈرون بیس کلو گرام بارودی مواد سے لیس ہیں اور اسرائیلی فضائی دفاع انہیں مار گرانے کے لیے تیار ہے۔ ذرائع نے سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی کو انکشاف کیا کہ تہران نے اسرائیل کی طرف بیلسٹک میزائل بھی داغ دئیے ہیں۔

پاسداران انقلاب کا تبصرہ

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ پاسداران انقلاب نے اسرائیل کی طرف ڈرونز اور میزائلوں کے ساتھ زبردست حملہ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے کہا اس کی فضائیہ نے دمشق میں تہران کے قونصل خانے پر بمباری اور ایرانی رہنماؤں اور فوجی مشیروں کے ایک گروپ کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل کے اندر مخصوص اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔ ایرانی ڈرونز نے کرمانشاہ، دوکوہہ، مغربی ایران اور دیگر علاقوں سے اڑان بھری ہے۔

عراق اور یمن سے ڈرون

دوسری جانب ایک سیکیورٹی ذریعے نے العربیہ کو بتایا ہے کیا کہ ایرانی ڈرون عراق میں ناصریہ اور میسان کے علاقوں سے گزرے ہیں۔ تین سیکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ عراقی صوبے سلیمانیہ پر ایران کی سمت سے بھیجے گئے متعدد ڈرون پرواز کرتے ہوئے دیکھے گئے۔

العربیہ ذرائع نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ میزائل حملہ عراقی دیالہ گورنری کے ساتھ ایرانی سرحد سے شروع ہوا۔ برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے نے اطلاع دی ہے کہ حوثیوں نے بھی اسرائیل کی طرف راکٹ فائر کئے ہیں۔

حزب اللہ نے بھی راکٹ فائر کر دئیے

ادھر لبنانی حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی فوجی مقام پر بمباری کی ہے۔ گولان میں واقع اسرائیلی بیرکوں پر درجنوں کاتیوشا راکٹ فائر کیے ہیں۔

عراقی فضائی حدود بند

عراق نے اعلان کیا کہ وہ اپنی فضائی حدود بند کر دے گا اور ہوائی ٹریفک معطل کر دے گا۔ وزیر ٹرانسپورٹ رزاق السعداوی نے بتایا کہ عراقی فضائی حدود بند کر دی گئی ہے اور ہوائی ٹریفک روک دی گئی ہے۔

شام نے دمشق کے اطراف روسی ساختہ پینٹسر زمین سے فضا میں مار کرنے والے دفاعی نظام اور اہم اڈوں کو اسرائیلی حملے کے پیش نظر ہائی الرٹ کردیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ توقع ہے کہ اسرائیل اپنے فوجی اڈوں اور تنصیبات کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا اور شام میں ایران کے وفادار مسلح دھڑوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ادھر برطانوی وزیر اعظم نے ہفتے کے روز دیر گئے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ خطے میں اردن اور عراق جیسے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ ”اسرائیل کی سلامتی کے لیے کھڑا رہے گا۔‘‘

رشی سوناک نے کہا، ”میں اسرائیل پر ایرانی حکومت کے لاپرواہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ ایران نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے گھر کے عقب میں افراتفری کے بیج بونے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘‘

برطانوی وزیر اعظم نے بیان میں کہا کہ “اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر، ہم صورت حال کو مستحکم کرنے اور مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے فوری طور پر کام کر رہے ہیں۔ کوئی بھی مزید خونریزی نہیں چاہتا۔‘‘

امریکہ کا اسرائیل کی حمایت کا آہنی عزم

امریکی ترجمان کے بقول صدر بائیڈن کا مؤقف واضح ہے کہ اسرائیل کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ امریکہ اسرائیل کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ایران کی جانب سے لاحق خطرات کے مقابلے میں اسرائیل کا دفاع کرے گا۔

ترجمان ایڈرین واٹسن نے ایک بیان میں مزید کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن کو صورتِ حال سے مسلسل آگاہ کیا جا رہا ہے اور امریکی صدر کی سکیورٹی ٹیم اسرائیل اور اپنے دیگر اتحادیوں اور پارٹنرزکے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

اے پی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران نے ایک ایسے انتقامی مشن میں، جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، ہفتے کی رات کو اسرائیل کی جانب درجنوں ڈرون اور بیلسٹک میزائل داغے ہیں جس نے مشرق وسطیٰ کو ایک ممکنہ علاقائی جنگ کے قریب دھکیل دیا۔

ملک کے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سےسے دہائیوں کی دشمنی کے باوجود ایسا پہلی بار ہوا جب ایران نے اسرائیل پر براہ راست فوجی حملہ کیا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *