May 25, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/americanarmenianlegion.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Ismail Haniyeh, the Doha-based political bureau chief of the Palestinian group Hamas, speaks to the press after a meeting with the Iranian foreign minister in Tehran on March 26, 2024. (AFP)

قاہرہ میں مصر اور قطر کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے مصر کے القاھرہ نیوز چینل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں غزہ جنگ بندی سے متعلق حماس اور اسرائیل کے درمیان بنیادی اور متنازع نکات پر اتفاق ہوا۔

تاہم جن بنیادی متنازع نکات پر اتفاق ہوا اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق کے بعد قطر اور حماس کے وفود واپس روانہ ہو گئے ہیں اور توقع ہے کہ معاہدے کی شرائط کو حتمی شکل دینے کے لیے دو دن کے اندر واپس آ جائیں گے۔

جبکہ امریکا اور اسرائیل کے وفد کچھ گھنٹوں بعد روانہ ہوں گے اور اگلے 48 گھنٹوں میں مشاورت جاری رہنے کی توقع ہے۔

اسرائیل اور حماس نے 6 ماہ سے جاری جنگ میں ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات کے نئے دور کے لیے اتوار کو اپنے نمائندے مصر بھیجنے کی تصدیق کی تھی جبکہ ہفتے کو امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز پہلے ہی مصر موجودہیں۔

حماس کی جانب سے مذاکرات میں اہم پیش رفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا اور قاہرہ مذاکرات کے فریقین میں سے کسی نے بھی القاھرہ ٹی وی کی رپورٹ کی تصدیق نہیں کی۔

حماس نے اتوار کو مذاکرات میں اپنے مطالبات کا اعادہ کیا جن میں مستقل جنگ بندی، غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا، بے گھر ہونے والوں کی واپسی اور غزہ میں قید اسرائیلی یرغمالیوں کے لیے فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔

تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیل عالمی برادری کے دباؤ میں نہیں آئے گا اور نہ ہی حماس کی انتہا پسندانہ مطالبات کو منظور کرے گا۔

قطر، امریکا اور مصر تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں جنگ بندی اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے خفیہ مذاکرات کر رہا ہے۔

گذشتہ برس سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے عسکریت پسندوں کی جانب سے سرحد پار اسرائیلی کمیونٹیز پر حملے سے تازہ جنگ شروع ہوئی تھی، ان حملوں میں 12 سو افراد ہلاک اور 250 سے زائد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت میں 33 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

غزہ کا کنٹرول سنبھالنے والی حماس اور اسرائیلی حکام میں مذاکرات کے لیے قطر اور مصر ثالثی کر رہے ہیں۔ غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی طور پر کی گئی اپیلوں کو اسرائیل نے مسترد کیا جبکہ امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس حوالے سے قراردادوں کو بھی ویٹو کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *