May 26, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/americanarmenianlegion.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu delivers his speech after a meeting with German Chancellor Olaf Scholz in Jerusalem, March 17, 2024. (Reuters)

پیر کو اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت میں اس مقدمے کی ابتدائی سماعت شروع ہو رہی ہے جس میں اسرائیل کو جرمنی کی طرف سے فوجی اور دیگر امداد کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ مطالبہ اس دعوے کی بنیاد پر ہے کہ برلن غزہ میں جاری اسرائیل-حماس جنگ میں نسل کشی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں میں”سہولت” فراہم کر رہا ہے۔

اسرائیل سختی سے اس بات سے انکار کرتا ہے کہ اس کی فوجی مہم نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔

اگرچہ نکارا گوا کی طرف سے لایا گیا مقدمہ جرمنی پر مرکوز ہے لیکن اس کا رخ بالواسطہ طور پر سات اکتوبر کے مہلک حملوں کے بعد غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کی طرف ہے۔

جرمن وزارتِ خارجہ کے ترجمان سیباسٹین فشر نے سماعت سے قبل کہا، “ہم پرامن ہیں اور ہم عدالت میں اپنا قانونی مؤقف پیش کریں گے۔”

فشر نے جمعہ کو برلن میں صحافیوں کو بتایا، “ہم نکاراگوا کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔”

“جرمنی نے نہ تو نسل کشی کے کنونشن اور نہ ہی بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور ہم اس کو بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے تفصیل سے پیش کریں گے۔”

نکاراگوا نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ ابتدائی احکامات جاری کرے جنہیں عارضی اقدامات کہا جاتا ہے جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جرمنی “اسرائیل کو دی جانے والی اپنی امداد کو فوری طور پر معطل کر دے، بالخصوص اس کی فوجی امداد بشمول فوجی سازوسامان کیونکہ یہ امداد نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں استعمال ہو سکتی ہے۔”

عدالت ممکنہ طور پر اپنا ابتدائی فیصلہ سنانے میں ہفتوں کا وقت لے گی اور نکاراگوا کا مقدمہ برسوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

عالمی عدالت میں پیر کی سماعت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اتحادیوں کی طرف سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کرنے کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں کیونکہ چھ ماہ سے جاری اس کی فوجی مہم نے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔

نوٹر ڈیم یونیورسٹی میں علومِ قانون و بین الاقوامی امن کی پروفیسر میری ایلن او کونل نے کہا، “اگلے ہفتے دی ہیگ میں ہونے والا مقدمہ اسرائیل کے لیے کسی بھی حمایت کی مخالفت کو مزید تقویت دے گا۔”

جمعہ کو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلیٰ ادارے نے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت یا ترسیل بند کریں۔ امریکہ اور جرمنی نے قرارداد کی مخالفت کی۔

اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے خیراتی ادارے ورلڈ سینٹرل کچن کے سات امدادی کارکنوں میں سے تین برطانوی شہری تھے جس کے بعد سینکڑوں برطانوی قانون دانوں بشمول سپریم کورٹ کے تین ریٹائرڈ ججوں نے بھی اپنی حکومت سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل نے کہا کہ امدادی کارکنوں پر حملہ “غلط شناخت” کی وجہ سے ہونے والی ایک غلطی تھی۔

جرمنی کئی عشروں سے اسرائیل کا کٹر حامی رہا ہے۔ حماس کے سات اکتوبر کے حملے کے چند دن بعد چانسلر اولاف شولز نے قانون سازوں کو بتاتے ہوئے وضاحت کی کہ: “ہماری اپنی تاریخ اور ہولوکاسٹ سے پیدا ہونے والی ذمہ داری کی بنا پر ہمارے لیے ایک مستقل کام ہے کہ اسرائیل کی ریاست کی سلامتی کے لیے کھڑے ہوں۔”

البتہ برلن نے بتدریج اپنا لہجہ بدلا ہے کیونکہ غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے غزہ میں انسانی صورتِ حال کی نزاکت بہت بڑھ گئی ہے اور رفح میں زمینی حملے کی مخالفت ہو رہی ہے۔

نکاراگوا کی حکومت کے فلسطینی تنظیموں کے ساتھ تاریخی روابط ہیں جو 1979 کے سینڈینیسٹا انقلاب کے لیے ان کی حمایت کے وقت سے جاری ہیں جبکہ خود اسی پر اس سال کے شروع میں اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ انسانی حقوق کے ماہرین نے انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا جنہیں “انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف” قرار دیا گیا۔

صدر ڈینیئل اورٹیگا کی حکومت نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔

جنوری میں آئی سی جے نے عارضی اقدامات نافذ کرتے ہوئے اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ غزہ میں موت، تباہی اور نسل کشی کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔ یہ احکامات جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں سامنے آئے جس میں اسرائیل پر نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا۔

عدالت نے گذشتہ ہفتے اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ غزہ میں انسانی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے جس میں مزید زمینی گذرگاہیں کھولی جائیں تاکہ جنگ سے تباہ شدہ انکلیو میں خوراک، پانی، ایندھن اور دیگر سامان پہنچایا جا سکے۔

جمعہ کے روز اسرائیل نے کہا وہ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی روانی بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے جن میں شمالی غزہ میں ایک اہم سرحدی گذرگاہ کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔

نکاراگوا کا استدلال ہے کہ اسرائیل کو سیاسی، مالی اور فوجی مدد دے کر اور فلسطینیوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی اونروا کو فنڈنگ معطل کر کے “جرمنی نسل کشی کے ارتکاب کو سہولت فراہم کر رہا ہے اور کسی بھی صورت میں نسل کشی کے ارتکاب کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے میں ناکام رہا ہے۔”

اسرائیل یہ کہتے ہوئے کہ وہ اپنے دفاع میں کارروائی کر رہا ہے، اس بات کی سختی سے تردید کرتا ہے کہ اس کا حملہ نسل کشی کے مترادف ہے۔ اسرائیل کے قانونی مشیر ٹال بیکر نے جنوری میں عدالت میں منصفین کو بتایا کہ ملک ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے “جس کا نہ تو آغاز اس نے کیا اور نہ ہی وہ یہ جنگ چاہتا تھا۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *