April 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/americanarmenianlegion.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
CENTCOM Commander Gen. Erik Kurilla onboard the USS Carney in the Red Sea. (US Central Command)

‘سینٹ کام’ کے ہفتے کے روز جاری کیے گئے بیان کے مطابق امریکی فوج نے ایک متحرک جہاز شکن میزائل سسٹم کو نشانہ بنایا۔ یہ جہاز شکن میزائل یمنی حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقے سے عملے کے بغیر چلنے والی ایک کشتی سے داغے گئے تھے۔

چار جہاز شکن بیلسٹک میزائل بحیرہ احمر سے حوثیوں نے کمرشل شپ ‘ایم ٹی پولیکس’ کو جمعے کے روز سوا ایک بجے دوپہر میں نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی جو کہ مقامی وقت کے مطابق رات کے ایک بجے کے وقت کے قریب تھا۔ یہ بات ‘سینٹ کام’ کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی طرف سے ‘ایکس’ پر بتائی گئی۔

امریکی فوج کے بیان کے مطابق کمرشل شپ ‘ایم ٹی پولکس’ اور علاقے میں موجود دیگر جہازوں میں کسی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔

ایرانی حمایت یافتی یمنی حوثیوں کے ہفتے کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق تیل بردار جہاز ‘پولکس’ پر میزائل داغا گیا تھا۔

امریکی دفتر خاارجہ نے جمعے کے روز بتایا تھا کہ ‘پولکس’ پاناما کا جہاز تھا جو کہ خام تیل لے کر بھارت جا رہا تھا اس دوران اس کو بندر گاہ کی طرف سے میزائل کا نشانہ بنایا گیا۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحیٰ ساریا نے کہا ہے کہ یمن کی بحری فوج نے برطانوی تیل بردار جہاز’ پولکس’ کو بحیرہ احمر میں بڑی تعداد میں میزائلوں کا نشانہ بنایا تھا اور یہ میزائل حملے بالکل نشانے پر لگے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *