April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/americanarmenianlegion.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
رفح سے

امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ سیکرٹری انتھونی بلنکن نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو بتایا ہے کہ واشنگٹن رفخ میں دس لاکھ سے زیادہ افراد کی حفاظت یقینی بنانے کے کسی قابل اعتماد اور قابل عمل منصوبے کے بغیر رفح میں زمینی فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کر سکتا۔

وزارت نے ایک بیان میں مزید کہا کہ بلنکن نے ہرزوگ پر زور دیا کہ تمام فریق شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ اور تنازع کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ممکنہ اقدامات کریں۔ بلنکن نے اسرائیلی صدر کو اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام سمیت مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے واشنگٹن کے عزم کا بھی یقین دلایا۔

بلنکن نے اس سے قبل میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ آنے والے مہینوں میں بحرانوں کو حل کرنے کے لیے ایک غیر معمولی موقع موجود ہے۔ انہوں نے ایک ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کے ساتھ آگے بڑھنے کی فوری ضرورت پر روشنی ڈالی جو اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت بھی ہو۔ امریکی وزیر خارجہ نے نشاندہی کی کہ فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کے لیے عرب ملکوں کی قیادت حقیقی کوششیں کر رہی ہے۔

قبل ازیں ہفتہ کو ہی اسرائیلی میڈیا نے کہا کہ فوج اگلے ہفتے سیاسی قیادت کو جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح پر حملہ کرنے کا تفصیلی منصوبہ پیش کرے گی۔ ٹائمز آف اسرائیل نے چینل 12 کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے میں بظاہر رفح کے رہائشیوں کو جنوبی اور وسطی غزہ کی پٹی کے دیگر علاقوں میں منتقل کرنا شامل ہے لیکن اس میں انہیں شمالی غزہ کی پٹی میں منتقل کرنا شامل نہیں ہے۔

اخبار نے عندیہ دیا کہ وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور دفاعی کونسل کے وزیر بینی گانٹز کا خیال ہے کہ اگر اگلے مارچ میں رمضان کے مہینے تک قیدیوں کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تو فوج کو رفح میں داخل ہوجانا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *