April 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/americanarmenianlegion.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Javeline anti-tank missiles sit onstage as US President Joe Biden delivers remarks on arming Ukraine after a tour of a Lockheed Martin weapons factory in Troy, Alabama, May 3, 2022. (Reuters)

امریکی حکام نے اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ کو بتایا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اسرائیل کو مزید بم اور ہتھیار بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے، جس سے اسرائیلی فوجی ہتھیاروں کو تقویت ملے گی، جب کہ واشنگٹن “عوامی طور پر” غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا مطالبہ کر رہا ہے اور وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر زور دےرہا ہے۔

موجودہ اور سابق امریکی حکام نے بتایا کہ ان ہتھیاروں میں FMU-139 بم فیوز کے علاوہ تقریباً ایک ہزار MK-82 بم، KMU-572 براہ راست حملہ کرنے والے گولہ بارود شامل ہیں جو بموں کی درست رہنمائی کرتے ہیں۔ ان ہتھیاروں کی مالیت کروڑوں ڈالر بتائی جاتی ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ مجوزہ ترسیل ابھی بھی امریکی انتظامیہ کے اندرونی جائزے کے تحت ہے اور بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے ان ہتھیاروں کی منتقلی کے عمل کی منظوری کے لیے کانگریس کی کمیٹیوں کے رہ نماؤں کو مطلع کرنے سے پہلے تجویز کی تفصیلات تبدیل ہو سکتی ہیں۔

اسلحے کی متوقع کھیپ اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی پر شروع کی گئی جنگ کے ایک اہم لمحے کے دوران سامنے آئی ہے، جب وہ جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے جہاں 16 لاکھ سے زائد فلسطینی جنگ سے پناہ لیے ہوئےہیں۔

اسرائیل حماس پر حملہ کرنے کے لیے “خطے میں اپنی فوجی کارروائی کو بڑھانے کی ضرورت” کا بہانہ استعمال کرتا ہے، جب کہ بین الاقوامی برادری خبردار کرتی ہے کہ اگر اسرائیل یہ زمینی حملہ کرتا ہے تو “انسانی تباہی” ہو سکتی ہے۔

جمعہ کی شام صدر بائیڈن نے غزہ میں “جنگ بندی” کا مطالبہ کیا تاکہ قیدیوں کو رہا کیا جا سکے۔ انہیں رفح میں اسرائیل کی طرف سے فوجی آپریشن کی توقع نہیں ہے،کیونکہ قیدیوں کے حوالے سے بات چیت جاری ہے”۔

“خطرات کے خلاف اسرائیل کا دفاع”

وائٹ ہاؤس نے جنگی ہتھیاروں کی منتقلی کے عمل کو منظوری کے لیے محکمہ خارجہ اور دفاع کو اس کی تفصیلات بھیجی ہیں۔

اسلحے کی منتقلی کے حوالے سے اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کی طرف سے تیار کردہ ایک جائزے اور وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے “جاری اور ابھرتے ہوئے علاقائی خطرات سے اسرائیل کا دفاع کرنے کے لیے ان جنگی آلات تک فوری رسائی کی درخواست کی تھی”۔

اس جائزے میں کہا گیا کہ ان ہتھیاروں کی فروخت کے حوالے سے “انسانی حقوق کے بارے میں کوئی ممکنہ خدشات نہیں ہیں”۔ اخباری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کر رہا ہے اور ان حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی سکیورٹی فورسز کو جوابدہ ٹھہرایا جا رہا ہے”۔

ایک سابق امریکی اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ ان ہتھیاروں کی منتقلی کے عمل کو “اسرائیل کو امریکی فوجی امدادی پیکج سے مالی اعانت فراہم کی جائے گی”۔ انہوں نے مزید کہا کہ “امریکہ سے اسرائیلی ہتھیاروں کی زیادہ تر خریداری ان اربوں ڈالر سے آتی ہے جو امریکہ ہر سال اسرائیل کے لیے مختص کرتا ہے۔

“19 ہفتوں کی جنگ کے لیے گولہ بارود کا ذخیرہ”

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایسے بموں کا استعمال اس جنگ میں کیا جو وہ اس وقت غزہ کے خلاف کر رہی ہے۔

امریکہ نے جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیل کو تقریباً 21,000 مطابق گائیڈڈ گولہ بارود فراہم کیا ہے اور اسرائیل نے اس تعداد کا تقریباً نصف استعمال کیا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس کے جائزے کے مطابق باقی ماندہ ہتھیار اسرائیل کے لیے غزہ میں مزید 19 ہفتوں کی لڑائی کے لیے کافی ہیں۔ اگر اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف دوسرا محاذ شروع کرتا ہے تو یہ مقدار کم ہو کر چند دنوں کے لیے رہ جائے گی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ منتقلی بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل کو تیز کرنے کی وسیع تر کوششوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

امریکہ نے 7 اکتوبر کے حملے کے فوراً بعد اسرائیل کو براہ راست ہتھیار بھیجنا شروع کیے اور کانگریس کی منظوری کو نظرانداز کرنے اور ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے دو بار ہنگامی قوانین کی درخواست کی۔

بائیڈن انتظامیہ نے اب تک اسرائیل کو اسلحے کی فروخت پر شرائط عائد کرنے سے انکار کیا ہے تاکہ اسے جنگ میں اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

بائیڈن نے سختی سے اسرائیل کا ساتھ دیا حالانکہ اس نے بعض اوقات غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کرنے اور جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *