April 14, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/americanarmenianlegion.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
مداخلة مع الجنرال باتريك رايدر المتحدث باسم البنتاغون

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) کے ترجمان پیٹرک رائڈر نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ واشنگٹن رفح میں کسی بڑی اسرائیلی فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ہم اسرائیل کے شانہ بشانہ ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کے لیے کام کر رہے ہیں”۔

“ہم صرف مشورہ دیتے ہیں”

انہوں نے ’العربیہ‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ اسرائیل کو فوجی منصوبے فراہم نہیں کرتا بلکہ صرف “مشورہ” دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن حماس کو ختم کرنے کی حمایت کرتا ہے، لیکن ہم شہریوں کے تحفظ پر بھی زور دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں جنگ اسرائیل کی ہے اور ہم ان پر کچھ نہیں کہتے۔ امریکہ کی اسرائیل کے ساتھ دوسرے اتحادیوں کی طرح سکیورٹی پارٹنرشپ ہے۔

“ہم اسرائیل سے پوچھیں گے”

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ “ہم اسرائیل کو جو ہتھیار فراہم کرتے ہیں وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق استعمال ہونے چاہئیں۔ امریکہ اسرائیل سے پوچھے گا کہ کیا ہتھیاروں کا غیر قانونی استعمال ہے”۔

انہوں نے کہا کہ “ہم خطے کے شراکت داروں کے ساتھ غزہ کے مستقبل پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مرحلے پر ہماری توجہ غزہ کو امداد پہنچانے پر ہے”۔

“غزہ کے مستقبل میں اتھارٹی کا کردار”

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا حماس کی جانب سے لاحق خطرے کو سمجھتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی سے غزہ کی پٹی کے مستقبل میں کردار ادا کرنے کی توقع ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ “امریکہ اسرائیل کے شانہ بشانہ ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا ہے”۔

“حوثیوں کے تشدد سے خطے کو خطرہ ہے”

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان نے حوثیوں کی جانب سے بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرات پر بات کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں نیویگیشن کی حفاظت کے لیے امریکی کوششوں کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں کا بحیرہ احمر میں لاپرواہی سے تشدد خطے کی سلامتی اور اقتصادی صلاحیتوں کو متاثر کرتا ہے۔

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنوبی لبنان کے محاذ کو بھڑکانے کے بارے میں امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ تنازعہ پھیلے اور نہ ہی ہم علاقائی تنازعہ چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *