April 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/americanarmenianlegion.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Francesca Albanese, UN special rapporteur on human rights in the Palestinian territories, attends a side event during the Human Rights Council at the United Nations in Geneva, Switzerland, March 26, 2024. (Reuters)

اقوام متحدہ کی ماہر فرانسسکا البانی کو اس وجہ سے دھمکیاں ملی ہیں کہ انہوں نے اسرائیل کو حماس کے ساتھ جنگ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ فرانسسکا البانی نے یہ بات بدھ کے روز بیان کی ہے۔ البانی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے سلسلے میں خصوصی نمائندے کے طور پر تعینات ہیں۔

ان کا دائرہ کار مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں انسانی حقوق کی صورت حال مانیٹرنگ کے حوالے سے ہے۔ انہوں نے اس بارے میں ایک تازہ رپورٹ مرتب کی ہے، جس میں اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ اسرائیل نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

البانی سے پوچھا گیا تھا’ اسرائیل کے بارے میں رپورٹ مرتب کرنے پر انہیں دھمکیاں ملی ہیں ۔؟’ انہوں نے کہا ‘ ہاں مجھے دھمکیاں ملی ہیں۔ مگر میں نے اب تک ان کا کوئی دباؤ قبول نہیں کیا ہے۔ کہ میں ان دھمکیوں کو اپنے یا کام کے نتائج پر اثر انداز ہونے دیتی۔’

واضح رہے البانی 2022 سے اس اہم عہدے پر تعینات ہیں اور انسانی حقوق کی مانٹرنگ کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے کے طور کام کر رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے دھمکیوں کے حوالے سے اسرائیل کا نام لے کر نہیں کہا ہے کہ یہ دھمکیاں اسرائیل کی طرف سے ملیں۔

البانی نے کہا ‘ یہ ایک مشکل وقت رہا ہے، میرے اس کام کے آغاز کے ساتھ ہی مجھے حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔’ ان کی فلسطینیوں کی اسرائیل کے ہاتھوں نسل کشی کی رپورٹ پر اسرائیل ان پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیلی ریاست کے قیام اور وجود کو چیلنج کر رہی ہیں۔’ تاہم البانی نے اسرائیل کے الزام کی تردید کی ہے۔

فرانسسکا البانی نے ان کی مرتب کردہ رپورٹ کا حاصل یہ ہے کہ اسرائیلی کی فوجی و انتظامی قیادت کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوجیوں نے جان بوجھ کر نسل کشی کے لیے تشدد کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی ہے اور اسے اپنے تحفظ کا نام دیا۔’

اس لیے میں کہہ سکتی ہوں کہ اس امر کو بے نقاب کیے جانے سے جو چیز سامنے آئی ہے وہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی پالیسی ہے۔’ تاہم جنیوا میں اسرائیلی سفارتی مشن نے نسل کشی کے لفظ کو استعمال کرنے کو اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *