April 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/americanarmenianlegion.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

لاکھوں ہندوستانیوں نے سوموار کو ہولی کا ہندو تہوار منایا جس کے دوران تہوار کی موسیقی پر رقص، کھانے پینے کا تبادلہ اور ایک دوسرے پر سرخ، سبز، نیلے اور گلابی رنگ کا پاؤڈر چھڑک دیا جس سے فضا رنگوں کے ایک خوشگوار سیر بین میں بدل گئی۔

بڑے پیمانے پر رنگوں کے ہندو تہوار کے طور پر معروف ہولی ہندوستان، نیپال اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ تارکینِ وطن میں بھی موسمِ بہار کی آمد کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ ہندو دیوتا کرشنا اور اس کی ملکہ رادھا کے درمیان ایزدی محبت کا جشن ہے اور دوبارہ پیدائش لینے اور تجدیدِ شباب کے وقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب مثبت کو گلے لگایا اور منفی توانائی کو جانے دیا جائے۔

ملک بھر میں – کچھ مکمل سفید لباس میں ملبوس – لوگوں نے ایک دوسرے کو رنگین پاؤڈر میں بھگو کر تہوار منایا جبکہ دیگر نے بالکونیوں سے رنگین روغن والے پانی سے بھرے غبارے پھینکے۔ کچھ نے پارکوں میں ساتھیوں کا تعاقب کرتے ہوئے رنگین پاؤڈر سے بھرئ کھلونا پستولوں کا استعمال کیا اور کچھ نے اسپیکروں سے بجنے والی موسیقی پر سڑکوں پر رقص کیا۔

خورونوش تہواروں کا ایک بڑا حصہ ہے۔ ہندوستان کے کچھ حصوں میں دکانداروں نے ٹھنڈائی فروخت کی – جو دودھ اور خشک میوہ جات سے تیار کردہ ایک روایتی مشروب ہے اور بعض اوقات اس میں بھنگ بھی ڈالی جا سکتی ہے۔

ایک اور روایت جو ہولی کی نشاندہی کرتی ہے وہ ہے بھنگ، بھنگ کے پودے کے پتوں کو پیس کر ایک پیسٹ تیار کر کے اسے مشروبات اور کھانے کی اشیاء میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ہندو مت بالخصوص بھگوان شیوا سے منسلک ہے اور خطے میں کچھ مذہبی تہواروں کے دوران کھایا جاتا ہے۔ پیسٹ کی فروخت اور استعمال ہندوستانی قانون کے تحت جائز ہے اگرچہ چند ریاستوں نے اس پر پابندی لگا دی ہے۔

ہندوستان کے کچھ حصوں میں لوگ تہوار سے ایک رات پہلے بدی پر نیکی کی فتح کی یاد منانے کے لیے بڑے الاؤ بھی جلاتے ہیں۔

ہولی کی روایات پورے ہندوستان میں مختلف ہوتی ہیں۔

گذشتہ ہفتے اس تہوار کی تیاری میں دو شمالی قصبوں میں ایک رسم کے طور پر سینکڑوں خواتین نے مردوں کی چھیڑ چھاڑ کے جواب میں ان کو لکڑی کی لاٹھیوں سے مارتے ہوئے جشن منایا۔ یہ “لٹھ مار ہولی”کے نام سے معروف ہے اور زائرین کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *