April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/americanarmenianlegion.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
india theater

بھارت میں انتخابی مہم جاری ہے۔ لوک سبھا کے انتخابات کو سات مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے مگر اس وقت جاری انتخابی مہم میں ایک جانب اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد خود کو دیوار سے لگا محسوس کرتا ہے کہ اسے ‘ لیول پلیننگ فیلڈ ‘ سے محروم کر دیا گیا ہے تو دوسری جانب مودی کا حامی میڈیا اور بالی ووڈ ایسا مذہبی ‘ کانٹینٹ’ مودی کی حمایت کے لیے مہماتی انداز میں پیش کر رہا ہے کہ ہندو متعصب ووٹر زیادہ چارج نظر آئے۔

اس سلسلے میں بالی ووڈ کی تازہ سامنے آنے والی فلمیں بطور خاص انتخابی مہم میں مودی کی مہم کا حصہ بن گئی ہیں۔ ان مین وہ سارے مذہبی سیاسی موضوعات کی جھلک نمایاں موجود ہیں جو پچھلے برسوں میں مودی حکومت ، بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیے اہم تر رہے ہیں۔ نیز مودی کے حامی میڈیا پرسنز کی زبانوں پر گنگا اور جمنا کے پانیوں کی طرح پورے بہاؤ کے ساتھ چلتے رہے ہیں۔ ان فلموں میں بھی ان موضوعات کو فلمائے ہوئے انداز میں زیادہ پر کشش اور موثر بنا دیا گیا ہے۔

ایک نئی فلم میں 1947 میں حاصل کی گئی آزادی کے بھارتی ہیرو گاندھی جی سے شروعات ہوتی ہین لیکن آہستہ آہستہ فلم کی کہانی تاریخ کو رخ موڑ دیتی ہے کہ اصل قومی ہیرو تو گاندھی جی کا مخالف دامو دار سوارکر تھا۔ گاندھی جی مودی سرکار اور بی جے پی کے مسلسل نشانے پر رہے ہیں۔ مودی کے حامی میڈیا اور بی جے پی کی سوچ کو آگے بڑھانے والی تاریخ پر مودی دور میں لکھی گئی کتب اس سلسلے میں اہم کام کر چکی ہیں۔

واضح رہے مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والا انتہا پسند بی جے پی اور آر ایس ایس ہی نہیں مودی سرکار کے بڑوں کے لیے بھی ہیرو کا درجہ رکھتا ہے اور مودی نواز میڈیا ہاؤسز کے لیے بھی ۔ اس لیے پچھلے دس برسوں میں اسے بالعموم ہیرو بنا کر پیش کرنے اور گاندھی کو متنازعہ بناکر پیش کرنے کی کوشش نمایاں رہی ہے۔

بھارت کو ایک سیکولر ملک کی شناخت کے بجائے ہندو قوم پرست ریاست کی ایسی شناخت دینا جو عملی طور پر نسل پرست ہندو ریاست کے طور پر بھارت کو پیش کرے ۔مودی سرکار نے بڑے منظم انداز میں اس پر کام کیا ہے۔ ہندوتوا کی تھیم یہی ہے۔ اسی طرح اقلیتوں کے خلاف آئین اور سیاست کے میدان میں تبدیلیاں بھی اسی لیے لازم سمجھی گئیں۔

اس پس منظر میں بیسویں صدی کے شروع میں ابھرنے والی ہندوقوم پرستانہ سوچ اور نظریات کو دوبارہ اٹھانے کی کوشش بھی اہم رہی ہے۔ اس سوچ میں سوارکر ہندو قوم کے ہیرو ہیں گاندھی نہیں۔ مودی کے تیسری بار جیتنے کی صورت میں ہندو قوم پرستی کی یہ سوچ عملاً بھارت سے اس کی سیکولر شناخت چھیننے کی راہ ہموار کر دے گی۔ مودی اور ان کے حامی اس سیاسی ایجنڈے کو اپنے سامنے ایک عقیدے کی طرح رکھتے ہیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بھارتی فلسم انڈسٹری اور سینما سٹریٹجی کو انتخابی مہم کے لیے استعمال کرنے سے ہندو مذہبی قوم پرستی کے خیالات کو زیادہ موثر انداز سے فوری اور دیرپا اثرات کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ حالیہ برسوں کے دوران اس کے لیے زمین پر پہلے سے ہی کافی کام کردیا گیا ہے اور اس وقت میدان اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے لیے ہموار ہو یا نہ ہو ہندو مذہبی قوم پرستی کے لیے خوب ہموار کیا جاچکا ہے۔

راج سین بھارتی فلم انڈسٹری کے حوالے سے ایک مانے ہوئے تجزیہ کار ہیں وہ بالی ووڈ کے سکرین رائٹر بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ‘ بھارتی فلمیں مخلوط قومی تصور کو سینما کے ذریعے پیش کیا کرتی تھیں اور ایک اتحاد کی فضا بڑھاتی تھیں۔ لیکن اب نظر آرہا ہے کہ ایک تیز رفتار تبدیلی ہو رہی ہے۔’ ان کے نزدیک اس سے بھی خوفناک بات یہ ہے اس تبدیلی کو تیزی سے قبول بھی کیا جارہا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے بالی ووڈ فلسم انڈسٹری نے بھارت کو متحد رکھنے میں کردار ادا کیا ہے۔ ایک ایسا ملک جس میں کئی مذاہب، کئی نسلیں اور قومیں آباد ہیں اسے اکٹھا رکھنے میں فلم انڈستڑیز کا کام بھی اہم رہا ہے۔ اس فلم انڈستڑی نے مذہبی ہم آہنگی کو بھی ماضی میں بڑھایا تھا، مگر اب حالات بدل رہے ہیں۔

بھارت کی مشترکہ ثقافت کی سوچ کا بدلاؤ

مودی سرکار بلا شبہ ہندو قوم پرستی کی نمائندہ حکومت رہی ہے۔ اس لیے بھارتی فلم انڈسٹری نے بھی انہیں خیالات کی روش کو آگے بڑھایا ہے۔ بھارت کے مذہبی کرداروں کو فلموں میں ہیرو کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ ہندو مائیتھالوجی فلموں کو موضوع نہیں اسلوب ہے۔ حتیٰ کہ ڈراموں میں بھی یہ چیز در آئی ہے۔

جبکہ مسلمانوں کی تاریخ کے اہم کرداروں یا اور مسلم حکمرانوں کو بھی ولن کے طور پر فلموں میں بطور اہتمام پیش کیا جارہا ہے۔ سوارکر جس نے بھارت کے مذہبی قوم پرستی کے تعارف کے پیش کار رہے ہین ان کی سوچ گالب آرہی ہے۔

مزید دو نئی آنے والی فلموں میں بھارتی ریاست گجرات میں 2002 میں ٹرین میں آگ لگنے کی سازش کو ظاہر کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ہندوستان میں بدترین مسلم مخالف فسادات کا یہ اہم حوالہ ہیں۔ فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے جن میں ظاہری بات ہے غالب اکثریت میں مسلمان ہی قتل کیے گئےتھے۔ وہ فسادات مودی کے وزیر اعظم بننے میں اہم ثابت ہوئے۔ انتخابی مہم کے دوران اس موضوع کو فلم نے پھر نمایاں کر دیا ہے۔ تاکہ ہندو قوم پرستی اور ہندو مذہبی ووٹ کو متحرک کر دیا جائے۔

ایک اور فلم کے ذریعے دعویٰ کیا گیا کہ نئی دہلی کی ایک یونیورسٹی ملک دشمنی کے ایجنڈے کے ساتھ ہے۔ خیال رہے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی پر بنائی گئی فلم ہے مبنی ہے، جو ملک کے بڑے لبرل اداروں میں سے ایک ہے جو ہندو قوم پرستوں اور مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کے نشانے پرآ چکی ہے۔

ایک فلم میں جنوبی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والی عیسائی اور ہندو لڑکیوں کی تصویر کشی سے متعلق ہے ۔ اس میں غلطیاں کرنے پر بڑے پیمانے پر تنقید کا جن کا کہنا تھا کہ یہ اسلام دشمنی ہے اور مذہبی ہم آہنگی کو تباہ کر دے گی۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ مودی کی انتخابی مہم اب زیادہ کامیاب ہو سکے گی۔

وزیر اعظم نریندرمودی کی جماعت ‘بی جے پی’ حکومت والی کم از کم تین ریاستوں نے اس فلم کو ٹیکس سے پاک دیکھنے کے لیے ٹکٹ بنائے اور بڑے پیمانے پر نمائش کا انعقاد کیا ہے۔ مودی نے بھی خود ریاستی انتخابی ریلی کے دوران فلم دیکھنے کے لیے کہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *