April 14, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/americanarmenianlegion.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
People take part in a protest to mark 100 days since the start of the ongoing conflict between Israel and Hamas in Gaza during a march in London, Britain, on January 13, 2024. (Reuters)

غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے غیررسمی اثرات نے برطانیہ کی اندرونی اور پارلیمانی سیاست کو جنھجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ برطانوی قانون سازوں کو اپنے مخالف نقطہ نظر رکھنے والوں کی طرف سے خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کئی قانون ساز اپنے عہدوں کو چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ برطانوی حکومت نے اس پس منظر میں برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کی سیکورٹی کے لیے اضافی فنڈز مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی حکومت نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ قانون سازوں کی سیکورٹی کے لیے مزید اقدامات کر رہی ہے۔ یہ فیصلہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے تناظر میں مقامی طور پر ملنے والی ان دھمکیوں اور بڑھے ہوئے خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے جن کا قانون سازوں کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ واضح رہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہونے والی وسیع پیمانے پر ہلاکتوں کے خلاف نہ صرف یہ کہ عوامی سطح پر مظاہروں کی صورت میں غیرمعمولی رد عمل سامنے ٰآیا بلکہ ان ہلاکتوں کے بعد یہود دشمنی اور مسلم دشمنی کے واقعات میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوگیا ہے۔

برطانوی محکمہ داخلہ کے مطابق ہر قانون سازوں کو سیکورٹی کا نظام بہتر کرنے کے سلسلے میں ایک خطیر رقم 40 ملین ڈالر کی صورت ادا کی جا رہی جو پولیس کے انتظامات کے علاوہ نجی سیکورٹی کے حصول کے لیے بھی خرچ کی جا سکے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ رقم وسیع تناظر میں برطانیہ کے جمہوری نظام پر ہی خرچ ہوگی۔ کہ اسی سال کے اواخر میں برطانیہ کے عام انتخابات بھی متوقع ہیں اور اس رقم کی تقسیم اس سے پہلے کی گئی ہے۔ یہ فنڈز ان علاقوں میں پولیس کی گشت پر بھی خرچ ہوں گے جہاں حالات خراب ہیں اور زیادہ کشیدگی کا خطرہ ہے۔

اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ نے برطانیہ کی سیاست کو اس طرح ہلا کر رکھ دیا ہے کہ برطانوی ارکان پارلیمنٹ یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ اسرائیلی جنگ کے بارے میں اختیار کردہ مؤقف کی وجہ سے انہیں عوام سے دھمکیاں ملنا شروع ہوگئی ہیں۔ حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ مائیک فریرنے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی حمایت سے منسلک بدسلوکی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کی وجہ سے اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پچھلے ماہ ان کے دفتر کو آگ لگانے کی جو کوشش کی گئی تھی وہ اس سلسلے کی آخری وجہ ہے جس نے انہیں سوچنے پر مجبور کیا کہ وہ پارلیمنٹ کی رکنیت چھوڑ دیں۔

واضح رہے برطانیہ ان مغربی ممالک میں سے ہے جنہوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر اسرائیل کی اس جنگ کے دوران غیر معمولی مدد اور حمایت کی ہے۔ حتیٰ کہ برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کی غزہ میں جنگ بندی کے حق اور مخالفت میں تقسیم اس قدر بڑھ گئی کہ پارلمینٹ کے اندر ہنگامہ آرائی کا ماحول پیدا ہوگیا۔

مائیک فریر کا کہنا ہے کہ سیکورٹی سے متعلق ملنے والی یہ اضافی رقم ملک میں جاری کشیدگی کی موجودہ صورتحال کی ظاہری علامتوں کے علاج کے لیے خرچ ہوگی۔ مگر کشیدگی کے ان اسباب کے لیے خرچ نہیں کی جا رہی جو موجودہ صورتحال کی بنیاد بن رہے ہیں۔

‘ٹائمز ریڈیو’ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم ان سیکورٹی اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ مگر جب تک خرابی کی جڑ تک نہیں پہنچا جاتا اس طرح کے اقدامات سے پارلیمان کے ارکان کے ارد گرد ایک فولادی دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس سے ہمارا جمہوری انداز بالکل بدل کر رہ جائے گا۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں یہ عمومی روایت ہے کہ پارلیمان کے ارکان باقاعدگی کے ساتھ اپنے حلقہ ہائے انتخاب میں مختلف کمیونٹیز کے لوگوں سے ملتے رہتے ہیں لیکن پچھلی دہائی میں ان کی سیکورٹی کو غیر معمولی طور پر بڑھا دیا گیا ہے کہ 2016 میں لیبر پارٹی کے قانون ساز جوکاکس کو دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا۔ جبکہ 2021 میں داعش سے متاثرہ حملہ آوروں نے کنزرویٹیو پارٹی کے رکن ڈیوڈ امیس کو قتل کر دیا تھا۔ اسی طرح 2017 اور 2019 میں بھی ناخوشگوار واقعات پیش آتے رہے۔

وزیر داخلہ جیمز کلیورلی نے کہا ہے کہ فلسطینی حامی اپنے ان احتجاجی مظاہروں کو روکیں جو سنٹرل لندن میں ہو رہے ہیں اور فلسطینیوں کے ان حامیوں نے ہر ہفتے کے لیے ان مظاہروں کی باقاعدگی سے کال دینا شروع کر رکھی ہے۔ واضح رہے کہ فلسطین کے یہ حامی گروپ غزہ میں ہونے والی اب تک کی 30 ہزار ہلاکتوں پر نہ صرف احتجاج کرتے ہیں بلکہ حکومت برطانیہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے لیے اپنی پالیسی کو تبدیل کرے۔

واضح رہے کہ لندن میں ہونے والے یہ مظاہرے پر امن رہے ہیں اور کوئی بدامنی کی صورت پیدا نہیں ہوئی۔ تاہم حماس کے حق میں نعرے لگانے پر درجنوں افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے کیونکہ حماس کو برطانیہ میں ایک کالعدم تنظیم کے طور پر لیا جاتا ہے اور اس کی حمایت کرنا جرم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *