April 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/americanarmenianlegion.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
رفح  سے

امریکی صدر بائیڈن کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک مرتبہ پھر غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح پر حملہ کرنے کا نہ صرف عزم ظاہر کیا بلکہ اس کی منظوری بھی دے دی ہے۔

اگرچہ وائٹ ہاؤس نے ایک روزقبل تصدیق کی ہے کہ اس نے رفح سے متعلق کوئی اسرائیلی منصوبہ نہیں دیکھا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس میں پس پردہ ایک زبردست تحریک چل رہی ہے کہ اس قسم کے کسی بھی اسرائیلی اقدام کا جواب کیسے دیا جائے۔

اگر نیتن یاہو نے فلسطینی شہر رفح پر فوجی حملہ شروع کرنے کے خلاف صدر کی بار بار کی انتباہات کو نظر انداز کیا اور شہریوں کی حفاظت کے قابل اعتماد منصوبے کے بغیر کوئی کارروائی کی تو بائیڈن انتظامیہ اس حوالے سے کئی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ایک عہدیدار نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ واشنگٹن نے اسرائیلی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ رفح میں بڑے فوجی آپریشن سے گریز کرے اور اس کے بجائے “انسداد دہشت گردی” کے مشن کو انجام دے۔

اس تناظر میں میری لینڈ سے ڈیموکریٹک سینیٹر کرس وان ہولن نے کہا کہ “بائیڈن نے اسرائیلی حکومت سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے بعض اقدامات کرے لیکن نیتن یاہو نے بارہا انھیں نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرز عمل سے امریکہ کمزور دکھائی دیتا ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ وہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر مبنی رفح میں فوجی آپریشن کرنے کے اسرائیل کے منصوبے کو دیکھنا چاہتا ہے۔ کئی بین الاقوامی تنظیموں، مغربی اور عرب ملکوں نے اسرائیل کو بارہا خبردار کیا ہے کہ رفح پر کوئی بھی حملہ بڑی تباہی کاباعث بنے گا۔ رفح میں 14 لاکھ بے گھر فلسطینیوں نے پناہ لی ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ پوری پٹی میں کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے اور اس لیے رفح کے بے گھر افراد کو کہیں بھی منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

خیال رہے بائیڈن اور “بی بی” کے درمیان تناؤ کے باوجود واشنگٹن اب بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کا سب سے قریبی اتحادی ہے۔ واشنگٹن نے اسی لیے تل ابیب کو فراہم کی جانے والی اسلحے کی ترسیل اور استعمال کرنے کے ذرائع پر کسی قسم کی پابندی لگانے سے انکار کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *